حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله العظمیٰ شبیری زنجانی کے سانحۂ ارتحال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی شیعہ علماء کونسل حیدرآباد تلنگانہ ہندوستان کے صدر مولانا سید شجیع مختار نے تعزیت پیش کی ہے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ علم و فقاہت کا ایک درخشاں چراغ گل ہو گیا؛ کہا کہ نہایت رنج و الم، قلبی صدمے اور گہرے حزن و ملال کے ساتھ عالمِ تشیع کے جلیل القدر فقیہ، مرجعِ تقلید، محققِ بلندپایہ اور حوزۂ علمیہ قم کی عظیم علمی شخصیت، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کے سانحۂ ارتحال پر بارگاہِ حضرت ولیِ عصر امام مہدیؑ، مراجعِ عظامِ تقلید، علمائے کرام، حوزاتِ علمیہ، تلامذۂ گرامی، سوگوار خاندان اور پوری ملتِ تشیع کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
مولانا سید شجیع مختار نے مرحوم آیت الله زنجانی کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانیؒ کی ذاتِ گرامی نے سالہا سال تک حوزاتِ علمیہ کے علمی افق کو اپنے فیضانِ علم سے منور رکھا اور تشنگانِ معارفِ اہلِ بیتؑ کے لیے علم و عمل، احتیاط و بصیرت اور اخلاص و بندگی کی راہیں روشن کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم آیت اللہ زنجانی ایسے چراغ تھے جن کی روشنی صرف درس گاہوں تک محدود نہ تھی، بلکہ ان کے علم کی ضیا نے دلوں کو جِلا، فکر کو سمت اور دین کے طالبوں کو استقامت عطا کی۔ ان کا علمی وقار، فقہی بصیرت، زہد و تقویٰ اور متواضع کردار مدتوں اہلِ علم کے لیے سرمایۂ افتخار اور نسلوں کے لیے نشانِ راہ رہے گا۔
مرکزی شیعہ علماء کونسل حیدرآباد تلنگانہ کے صدر نے کہا کہ آج حوزۂ علمیہ کی فضائیں سوگوار ہیں، منبر و محراب غم زدہ ہیں اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے عقیدت مند ایک ایسی شخصیت کی جدائی پر اشک بار ہیں جس کی زندگی علم کی پاسبانی، دین کی سربلندی اور معارفِ محمد و آلِ محمدؑ کی خدمت سے عبارت تھی۔
انہوں نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم بارگاہِ ربِّ ذوالجلال میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں کہ پروردگارِ عالم بحقِ محمد و آلِ محمدؑ، اس عالمِ ربانی کے درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمتِ اہلِ بیتِ اطہارؑ میں جگہ عنایت فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور ان کے پسماندگان، تلامذہ، متعلقین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل و اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ خداوندِ متعال مکتبِ تشیع کو ان کے علمی فیضان کا تسلسل نصیب فرمائے اور حوزاتِ علمیہ کو ایسے رجالِ علم عطا فرمائے جو اس خلا کو علم، تقویٰ اور خدمتِ دین سے پُر کرنے کا وسیلہ بن سکیں۔










آپ کا تبصرہ